بادل بھی اشک بہاتے ہیں

بادل بھی اشک بہاتے ہیں۔ ؟؟
اپنے خوابوں کی گٹھڑی لئیے ، بارش میں جھومتی ، میں من چلی سی، بارش میں اپنی پلکیں بھگوتی ، وہ میرے چہکتے لب ، میری بے باک گستاخیاں کرتی یہ مسکان اور آوارہ سی زلفیں، ایسی بہائی اس بارش کو کہ اتنا ٹوٹ کر برسی اور مجھے خود میں سمیٹ لیا ،
میں دیوانی سی بارش کی پناہ میں جھومتی چلی گئی ۔۔۔
اچھا کیا تم نے کبھی بارش کا لمس محسوس کیا ہے؟
پاگل ہو کیا بارش کا بھی کوئی لمس ہوتا ہے بھلا؟
تم پاگل ہی بولو مجھے ، لیکن میں نے بارش کا لمس محسوس کیا ہے ۔۔۔
جس طرح بارش کی موتی جیسی بوندیں مجھ پر برستی ہیں ، میرے ہاتھوں کی پوروں کو چھوتی ہیں ، میں بارش کا لمس محسوس کر پاتی ہوں اور پھر میرے وجود میں ایک سنسناہٹ سی طاری ہونے لگتی ہے۔۔
میں تو بے جاں چیزوں کو بھی اس قدر شدت سے محسوس کرنے کی عادی ہو چکی ہوں کہ بارش کا لمس میرے انگ انگ میں بس چکا ہے۔
اس دل کی کشتی جب بارش کے پانی میں أترتی ہے اک طلاطم خیز منظر میری سمتوں میں اترنے لگتا ہے ۔۔۔۔
بارش سے میرا رشتہ پرانا ہے، اکثر لوگ بارش میں رو پڑتے ہیں اور اچھا بھی کرتے ہیں أنکے آنسو کسی کو نہیں دکھتے ، مگر ناجانے کیوں میں أنکے اشک دیکھ پاتی ہوں مجھے محسوس ہونے لگتا ہے وہ شخص آنکھ میں نمی اور چہرے پہ مسکراہٹ سجانے کی اداکاری کر رہا ہے۔۔۔
اس لڑکی سے بارش کا رشتہ پرانا ٹہرا ، گر رات کے پہر میں بھی بارش کی ننھی ننھی بوندیں جو برسنا شروع ہوتی ہیں میری آنکھ کھل جاتی ہے ، مجھے بتانے کے میں زندگی کی روشنی ہوں اور آؤ اپنی مسکراہٹ کا دامن لے کر میں ان میں چھپ جاؤں اور اپنے اشک بہا سکوں ۔۔۔
کیا واقعی بادل بھی اشک بہاتے ہیں ؟
اور جب یہ بادل خوشی سے برستے ہیں ، تو میں اپنا وجود لئے ،اپنی مسکراہٹ کا دامن پھیلا دیتی ہوں اور بارش یہ دامن رد نہیں کرتی ، بلکہ تھام لیتی ہے ۔۔
اور اپنی سوندھی سی خوشبو میرے وجود میں بھر دیتی ہے۔۔۔میں اس خوشبو کو سمیٹے اپنی روح کو بارش کی فضا میں معلق ہونے دیتی ہوں۔۔۔
ایک تازگی بھرا احساس مجھے اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے ۔۔
یہ کھلکھلاتی بارش کی ننھی ننھی بوندیں مجھ سے سرگوشیاں کرتی ہیں، میں کسی أرتی ہوئی جگنو کی مانند اپنے شوخ رنگوں کی روشنیاں پھیلا دیتی ہوں۔۔
من چلی۔۔۔ تابی۔۔
