دل کی دھڑکن

اسپٹل کے کوریڈور میں وہ پاگلوں کیطرح یہاں وہاں بھاگتا نہ جانے کسکی تلاش میں تھا ۔۔
ایک سنگدل کیا اتنا بھی نرم دل ہو سکتا ہے ؟
کیا کنکریٹ مٹی کا ڈھیر بن سکتا ہے ؟
ہاں وہ لوہا پگھل چکا تھا ۔۔۔۔اس وقت سے جب وہ اسے چھوڑ گئ تھی۔۔۔۔
چکراتے سر کو تھام کر وہ وہیں رکھی گئیں کرسیوں پر گرتا چلا گیا۔۔
_________
عادی!
سنو نا! کب سے انتظار کر رہی ہوں جانتے ہو نا جب تک تمہاری آواز نہ سن لوں مجھے نیند نہیں آتی “
عدنان عرف عادی نے بے دلی سے جوابا وائس نوٹ بھیجا
” یار نوشی! بزی تھا بتایا تو تھا کام سے جارہا ہوں ۔۔۔کام ہوتے ہیں یار “
نوشین نے اسکی آواز کو دل میں اتارا اور فورا سے سوری کا میسج کیا ۔۔
“اچھا نا پلیز اب ناراض نہ ہو جانا”
“نہیں ہو رہا ناراض۔۔۔بس تم مجھے سمجھتی ہی نہیں اس بات کا گلہ ہے کبھی میرا حال بھی پوچھ لیا کرو “
عادی کا بدلتا لہجہ اور تیور نوشی کو دہلا رہے تھے ۔۔۔
________
اکیڈمی میں فی میل ٹیچر کی اشد ضرورت تھی ۔۔۔
یار عادی !
سنا کچھ؟
ٹیچر ارینج ہو گئ ہے ۔۔سلیم کی بیوی کی دوست ہے ۔۔۔آج ہی جوائن کرے گی ۔۔”
“ہمم اوکے “
عادی کم گو اور اپنی دنیا میں رہنے والا ایک کمپیوٹر ٹیچر تھا ۔۔۔
اسکی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی جس سے وہ مخالف کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ ۔۔
خاص طور پہ لڑکیاں ۔۔۔اسکی فیس بک میں گنے چنے مرد لیکن خواتین کی تعداد زیادہ تھی اور یہ بات صرف وہی یا اسکے قریبی لوگ ہی جانتے تھے ۔۔۔
خوبصورتی اسکی کمزوری تھی ۔۔۔
ٹیچر کا نام نوشین تھا گو کہ وہ اتنی حسین نہیں تھی لیکن پھر بھی اٹریکشن تو تھی اس میں ۔۔۔اور عادی کو اٹریکٹ بھی کر گئ تھی ۔۔۔۔
نوشین نے موبائل پہ انجان نمبر سے میسج دیکھا تو گھبرا گئ لیکن جلد ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ ۔۔
عادی کا میسج تھا
ایسا نہیں تھا کہ وہ انجان لوگوں سے جلد فری ہو جاتی تھی ۔۔۔بسس
پہلے دن ہی نوشین کو اس شخص میں کچھ الگ دکھا تھا
عادی نے نوشی کو سختی سے منع کیا تھا کہ ان دونوں کی دوستی کے بارے اکیڈمی میں کسی کو پتہ نہ چلے مجھے تمہاری عزت بہت عزیز ہے ۔۔
نوشی اسکی ہر بات من و عن مانتی رہی دل میں کسی کے لیے نرم گوشہ انسان سے کیا کچھ کروا لیتا ہے ۔۔۔۔
اکیڈمی میں عادی بالکل انجان اور غیر کیطرح برتاؤ کرتا reserve رہتا ۔۔۔
نوشی کچھ دنوں سے چپ چپ تھی اور عادی کو نظر انداز کر رہی تھی ۔۔۔
Noshi ! Why r u avoiding me ?
عادی کا تیسری بار یہی میسج تھا ۔۔۔
“Because…. because I think I ‘ m falling in love with you …okay ?
That’s why I ‘ m avoiding you “
Em leaving acedmy aadi ..
Why ? please don’t ….
یار میں کیسے تمہیں دیکھوں گا ؟
I love u too noshi ….
محبت کا اقرار ۔۔۔
نوشی کی پہلی محبت ۔۔عادی ۔۔
افف یہ درد ۔۔ بار بار کیوں ہوتا ہے ؟
_________
ہاہاہا ۔۔۔۔۔ ارے رانیہ ۔۔۔۔میں ہوں نا تمہارا صرف تمہارا ۔۔۔محبت ہے مجھے تم سے ۔۔۔
کھٹ کی آواز پر عادی مڑا تھا لیکن دروازے پر کوئ دکھا نہیں تو گھبرا کر کال بند کردی ۔۔۔
آج تو اکیڈمی آف ہے پھر کون آیا تھا ۔۔۔؟
________
کہاں ہو تم نوشی ؟ کہاں چلی گئ ہو ؟ ایک سال بعد اسے اچانک غائب ہونیوالی نوشی کی یاد ستائ تھی کیوں نا آتی۔۔۔۔حسن و زیبائش تو بہت دیکھی تھی لیکن وہ دعا کرنیوالے ہاتھ اور وہ لڑکی بھلا نہیں پایا تھا۔۔۔
جس سے اسے محبت نہیں تھی بس دل لگی تھی ۔۔۔۔۔
اور اب وہ اس سے ملنا چاہتا تھا معافی مانگ کر خود کو پر سکون کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
_________
اور آج جب وہ اسے ملی تو کس حال میں ۔۔۔
________
دھیرے دھیرے وہ مر جاتے ہیں
روگ جنہیں لگ جایا کرتے ہیں
جسم تو گھسیٹتا ہے سانسوں کی لے کو
ورنہ تو روح کے سب دھاگے ادھڑ جاتے ہیں
وہ میرا نہیں تھا نہ ہو گا
اس لیے بس چپ کر جاتے ہیں
پل پل موت تلک وہ مرتے ہیں
روگ جنہیں لگ جایا کرتے ہیں
(زنیرہ گیلانی)
عادی!
یہ تم نے کیا کیا ؟ سچا دل توڑ دیا ۔۔ہاں ؟
میں نے تو کبھی تمہارا ساتھ ایسے نہیں چاہا تھا بس محبت کی تھی وہ صدق دل سے اور دعا دی تھی وہ بھی روح کی گہرائ سے ۔۔۔۔تمہیں ذرا ترس نہیں آیا مجھ پہ ۔۔۔۔میرے ساتھ بھی وہی باتیں اور میری سٹوڈنٹ کے ساتھ بھی ؟
اس دن اگر میں اپنے پیپرز اٹھانے نہ آتی اکیڈمی میں تو کبھی اصلیت جان نہ پاتی ۔۔۔
میرا دل تو پہلے ہی مجھے دغا دے رہا تھا رپورٹ دیکھنے کے بعد تو میں ویسے ہی تم سے دور جانا چاہ رہی تھی ۔۔۔لیکن تب ایک بھرم تو رہتا عادی !
تمہارا بھرم میری پاکیزہ محبت کا بھرم۔۔۔۔لیکن سب بکھر گیا۔۔۔
پیار کی ڈور میں گرہ آگئ ۔۔۔
سو چلی آئ وہاں سے اور اس روگ اس غم کو اپنا اثاثہ اپنی متاع سمجھ کر سینچتی رہی ۔۔۔
سنا ہے تم مجھے ڈھونڈ رہے ہو ۔۔۔
کس لیے کیا چاہیے ۔۔کچھ نہیں ہے اس دم توڑتی نوشی کے پاس عادی کو دینے کے لیے ۔۔۔۔
لوٹ جاؤ ۔۔۔اور پھر کبھی واپس نہ آنا ۔۔۔
دعا ہے اللہ تمہیں ہر ہر سانس میں خوشی عطا کرے ۔۔۔۔
نوشین جعفری
_______
کارڈیالوجی سنٹر سے وہ ڈسچارج ہو چکی تھی ۔۔۔
یا شاید جان گئ تھی کہ عدنان اس کی بیماری اور اسکے ٹھکانے سے آشنا ہے ۔۔۔
وہ یہ بھی جانتا تھا نوشی کی کمزوری عادی ہے۔۔۔۔اسی لیے تو پھر سے کہیں گم گئ تھی سامنا ہوتا تو رو پڑتی اور اب یہ بھرم تو وہ رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
Aadi I love u …
آخری الفاظ ۔۔۔۔
اور پھر نمبر آف ہو گیا تھا ۔۔۔
________
ہیں ٹھکانے اتنے سارے، گھر مرا ہے کونسا؟
سوچتا پھرتا ہوں اب میں راستہ ہے کونسا؟
کاش آنکھیں دیکھ پاتیں، من کے بھیتر بھی کبھی
بے وفا ہے کونسا یا باوفا ہے کونسا؟
اِک محبت کا نشہ ہے، اِک ہے اس کے بعد کا
ہے نشہ دونوں میں ہی، آخر برا ہے کونسا؟
جسم بھی ہے روح بھی ہے، سب میں دو انسان ہیں
دیکھنا ہے چھوڑ کر تم کو گیا ہے کونسا؟
جان دیتے ہیں محبت میں بہت سے آج بھی
میں نے سوچا آج تک کوئی مَرا ہے کونسا؟
مر گئے ہیں پھول سارے، پھر سے گل پھر نہ کِھلے
آ کے دیکھو، پھر بتاؤ، اب بچا ہے کونسا؟
(-اسد اُللہ خاں)
