عکس

aks blog post

وہ اندھیرے کمرے میں سر جھکائے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گالوں پر رکھے بیٹھی جانے کیا سوچے جارہی تھی اس کے آنسو ٹپ ٹپ گرتے جارہے تھے اس کی ہچکیوں سے اس کی جسم ہچکولے کھا رہا تھا لیکن وہ بےسدھ سی ہوگئی تھی اسے احساس نہیں تھا کچھ کہ وہ اس وقت کہاں ہے وہ اپنے آپ میں پوری طرح کھوئی ہوئی تھی۔
اچانک کمرے میں روشنی ابھری کوئی اس کے سامنے دو زانو ہو کے آ بیٹھا تو اس نے آنسو بھری آنکھیں اٹھا کے اس کی طرف دیکھا اسے اپنے جیسی ایک لڑکی بیٹھی نظر آئی وہ ہوبہو اس کے جیسی تھی لیکن وہ تو خوبصورت تھی بے حد خوبصورت اس کے چہرے پر محسوس کیے جانے والا سکون تھا خوشی تھی بشاشت تھی اس کی آنکھیں بھی خوشی سے چمکتی تھیں اس کے وجود سے ہلکی سی روشنی پھوٹ رہی تھی اس نے ہاتھ بڑھا کے لڑکی کے گال چھوئے تو اسے لگا کا ہاتھ بھی چمکنے لگا ہے اس نے ڈر کے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
کون ہو تم اس نے اپنی ہمشکل سے پوچھا۔
“میں تم ہوں ہم ایک ساتھ اس دنیا میں اتارے گئے تھے مجھے تمہارے اندر رکھا گیا کہ جب جب تمہیں کسی دوست کسی سہارے کسی مددگار کسی غمگسار کی ضرورت ہو تو میں تمہارے اندر رہتے ہوئے تمہاری ہر ضرورت پوری کر سکوں تاکہ تمہیں کسی اور کہ در پر نہ جانا پڑے”۔۔۔۔اسکی ہم شکل نے مسکرا کے اسے اپنا تعارف کرایا۔۔۔۔
تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھی مڑ کے شیشے میں اپنا عکس دیکھا لیکن وہاں تو کوئی اور تھا شیشے میں تو وہ تھی ہی نہیں ایک عجیب سی بدصورت اجڑی ہوئی عورت کا دھندلا سا عکس اسے شیشے میں نظر آیا جس کے چہرے پر بے چینی تھی اکتاہٹ تھی بیزاری تھی اس کی آنکھیں خاموش اور بےنور سی تھیں اس کے بالوں میں چاندی کے تار نظر آرہے تھے اسکی خوبصورت کھال جھریوں میں بدلی نظر آرہی تھی اس نے بے یقینی سے شیشے میں نظر آتے عکس کو دیکھا پھر مڑ کے اپنی ہم شکل کو دیکھا۔۔۔۔
اور حیرانی سے سوالیہ انداز میں سے اپنی ہمشکل سے پوچھا
“اگر تم میں ہوں تو یہاں شیشے میں تو میں نہیں ہوں یہاں تو کوئی اور ہی بدصورت عورت نظر آرہی ہے”۔۔۔۔ اس کی بات سن کے اس کی ہمشکل مسکرا دی تو وہ شیشے میں خود کو نہ پا کر تھک کے اپنی ہمشک کے پاس جا بیٹھی اور
محبت عقیدت اور حیرانی سے اپنی ہمشکل کو چھو چھو کے دیکھنے لگی۔
خاموشی کے ایک گہرے وقفے کے بعد اس کی ہم شکل نے اس کے جھکے سر پر ہاتھ رکھا اور تھپتھپایا تو اس نے جھکا سر اٹھا کے ہمشکل کو دیکھا۔
“دیکھو ہم دونوں تو ایک ہی ہیں لیکن میں کتنی خوبصورت ہوں اور تم کتنی بدصورت ہو دیکھ کے ہی نفرت ہونے لگتی ہے”۔۔۔۔۔اس کی ہمشکل نے گردن اکڑا کے اس پر طنز کیا۔
اس کا منہ شرم اور افسوس کے مارے اس کے سینے سے لگا ہوا تھا
اس نے جھجھکتے ہوئے بڑی مشکل سے سر اٹھایا اور اپنی آنکھیں اپنی ہمشکل کی آنکھوں میں گاڑ دی اس کے چہرے پر بے بس سی ہنسی تھی اور بے نور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرے ہوئے تھے۔
“ہاں تم بہت خوبصورت ہو کیونکہ تم نے وہ نہیں سہا جو میرے اس ناتواں وجود نے ان گزرے ہوئے ماہ سال میں سہا ہے تم سہتی تو تم مجھ سے زیادہ بدصورت ہوتی تم اندر چھپی بیٹھی تماشا ہی دیکھتی رہی باہر آتی یہ سب ہوتا دیکھتی تو تمہیں معلوم ہوتا کہ کس قدر تکلیف سے میں گزری ہوں لیکن تم تو آنکھیں موندے اندر کہیں پڑی رہی ان ماہ سال کی سختیوں نے اس چھوٹی عمر میں میرے سر میں چاندی اتار دی ہے میری آنکھوں کی چمک چھین لی ہے مسکراہٹ کیا ہوتی ہے نہیں جانتی خوشی کا احساس پاس بھی نہیں پھٹکتا جینے کے لیے زندہ زندگی چاہیے ہوتی ہے لیکن میری زندگی مردوں سے بھی بدتر ہو چکی ہے ان سالوں میں مجھ سے سب چھین لیا گیا ہے تو بتاؤ کیسے رہتی خوبصورت کون کم بخت اتنا کچھ سہہ کے ٹھیک رہ سکتا ہے بتاؤ۔۔۔۔۔۔؟
اس کے سوالوں پر اس کی ہم شکل کا سر شرمندگی سے جھک گیا۔
“تمہارے چہرے پر اتنی بے سکونی کیوں ہے تمہیں سکون کیوں نہیں ملتا آخر میں نے ہزاروں خوشیاں دیکھی تمہارے ساتھ لیکن تمہارے چہرے پر کبھی خوشی کی زرا سی رمق تک نہیں دیکھی میں نے”۔۔۔۔۔ اس کی ہمشکل نے اس سے نظریں چرا کے پوچھا۔
سکون۔۔۔
ہاں لمحے بھر کو مل جاتا ہے سکون مجھے جب میں دنیا بھر کے نسخے آزما لیتی ہوں تب مل جاتا ہے لیکن اس سکون کی زندگی بہت مختصر ہوتی اتنی مختصر کہ سکون کے معنی تک بدل جاتے ہیں میں نے سکون پانے کے لیے ہر نسخہ آزما لیا ہے لیکن مجھے کہیں نہیں ملا میرا اندر اس قدر بے سکون ہے کہ اس بے سکونی کے نقصان مجھے اندر سے آہستہ آہستہ ختم کر رہے ہیں میں آہستہ آہستہ مر رہی ہوں”۔۔۔۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے اپنی ہمشکل کو جواب دیا اس کی ایک ایک حرکت سے بےسکونی چھلک رہی تھی۔۔۔
اس کی ہمشکل نے اس کی تکلیف اپنے دل اترتے محسوس کی اس نے بےچینی سے پہلو بدلا اور اٹھ کھڑی ہوئی پھر بمشکل اپنے آنسو پیتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“تمہاری آنکھوں کے گرد پڑی سیاہی اور مردہ آنکھوں سے مجھے خوف آرہا ہے بتاؤ کہ ان آنکھوں کی چمک کیسے ماند پڑ گئی ہے کیا ہوا کہ آنکھیں کی جگہ دو گہرے سیاہ گڑھے نظر آرہے ہیں۔۔۔۔
” آہاں کچھ خوبصورت سے چمکتے دمکتے خواب دیکھ لیے تھے جن کی قیمت آنکھوں کی چمک دے کے چکائی تھی
لیکن میرے خواب مر گئے جب خواب مر جائیں تو آنکھوں میں مردہ پن اتر آتا ہے پھر مردہ آنکھوں کے گرد گہری سیاہی اپنا مستقل ڈیرہ جما لیتی ہے”۔۔۔ اس نے اپنی کی سیاہ ہوتی آنکھوں پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی ہمشکل کو بتایا۔۔۔
اس کے دکھ سنتے سنتے اس کی ہمشکل بھی آہستہ آہستہ مرجھاتی جا رہی تھی جیسے اس کے بےسکونی بےچینی اس میں اس میں منتقل ہورہی ہو اور وہ مر رہی ہو اندر سے۔۔۔
وہ اپنی ہمشکل کو مرجھاتا دیکھ کے کھلکھلا کے ہنس دی
ارے تم تو لمحہ بھر بھی میری تکلیف برداشت نہ کر سکی ابھی تو بہت کچھ رہتا ہے پوچھنے اور بتانے کو لیکن دیکھو کیسے مرجھاتی جا رہی ہو جاؤ بس کرو رحم کرو خود پر جاؤ اور مت پوچھو مجھ سے کچھ۔۔۔
اس کی ہمشکل نے ہانپتے ہوئے ایک اور سوال کیا۔۔۔
“یہ جو چاندی اتر آئی ہے بالوں میں یہ جو تمہاری بھوری چمکتی رنگت مٹیالی سی ہو گئی ہے یہ جو وقت سے پہلے کھال لٹک گئی ہے اس میں کیا راز چھپائے بیٹھی ہو”۔۔۔۔۔
اس کی ہمشکل اب پھر سے تھک کے زمین پر بیٹھ چکی تھی اس کی بھوری چمکتی رنگت ماند پڑ چکی تھی بالوں میں سفیدی جھلکنے لگی تھی وہ ایک دم سے ایک بوڑھی بدصورت عورت میں بدل چکی تھی ایسے جیسے لمحے بھر میں صدیاں جی لی ہوں اس نے۔۔۔
“چھوڑو جانے دو یہ دکھ تو کچھ بھی نہیں ہیں ابھی تو دو دکھ سنے ہیں تم نے اور آدھ موئی سی ہو گئی ہو باقی سنو تو شائد تم مر ہی جاؤ بس اس لیے جاؤ میرے پاس بتانے کو کچھ نہیں ہے جاؤ کہ مجھے تمہاری زندگی عزیز ہے۔۔۔۔ اس نے اپنی ہمشکل کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا محبت سے کہا تو تو اس کی ہمشکل پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔۔۔۔

مریم ملک

One thought on “عکس By Farishtay Malik”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X